Posts
Showing posts from February, 2017
Imam Hussain (as) Shahadat Ki Dastan - امام حسین کی شہادت کی دردناک داست...
- Get link
- X
- Other Apps
[Emotional] Cryful Bayan by Maulana Tariq Jameel on Hazrat BILAL [r] Lif...
- Get link
- X
- Other Apps
Speed of Angel Jibreel (a.s) -- Jibreel (as) ki Tezz Raftar | حضرت جبراي...
- Get link
- X
- Other Apps
الہی تیری چوکھٹ پر بھکاری بن کے آیا ہوں(بآواز مریم بنت مفتی تقی عثمانی صاحب )
- Get link
- X
- Other Apps
Maulana Tariq Jameel Very Painful & Emotional Bayan 2017 | Urdu Bayan | ...
- Get link
- X
- Other Apps
Hazoor ﷺ Ki Quran mein Khobsorat Naat | Maulana Tariq Jameel
- Get link
- X
- Other Apps
Kamiyabi Ka Raaz | Maulana Tariq Jameel Latest Bayan (January 2017) at M...
- Get link
- X
- Other Apps
ایک بہادر خاتوں کی داستان شجاعت
- Get link
- X
- Other Apps
حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت صہیب بن سلمہ رضی اللہ عنہ کو اس لشکر کا قائد بنایا جو روم کے مقابلہ کے لیے تیار کیا گیا تھا اس لیے کہ اہل روم نے مسلمانوں کو اذیت پہنچائی تھی۔ حضرت صیہیب بن سلمہ رضی اللہ عنہ کی بیوی اسی لشکر میں تھیں۔ جنگ شروع شروع ہونے سے پہلے حضرت صہیب رضی اللہ عنہ لشکر کا معائنہ کرتے ہوئے اپنی بیوی کے سامنے سے گزرے تو بیوی نے ان سے پوچھا کہ جب جنگ شروع ہو جائے گی اور گھمسان کی حالت ہو گی تو میں تمہیں کہاں پاوں گی؟ حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے جواب دیا تم مجھے روم کے بادشاہ کے خیمے میں پاو گی یا جنت میں جب گھمسان کی جنگ شروع ہوئی تو حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے کمال بہادری کے جوہر دکھائے حتی کہ اللہ تعالی نے مسلمانوں پر نصرت بھیجی تو حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے دوڑتے ہوئے روم کے سربراہ کے خیمہ میں داخل ہونا چاہا، آپ جیسے ہی خیمہ میں داخل ہوئے ان کے تعجب سے رونگٹے کھڑے ہو گئے دیکھا کہ خیمہ میں ان کی بیوی ان سے پہلے خیمہ میں داخل ہو کر شہی...
سخاوت کی انتہا
- Get link
- X
- Other Apps
ایک مرتبہ اہل روم نے مسلمان علاقہ پر حملہ کیا اور مسلمان عورتوں کو باندیاں بنا کر لتے گئے ۔ جب منصور بن عماد کو اس کی اطلاع ملی تو لوگوں نے کہا کہ آپ ہارون رشید کے ہاں جا کر لوگوں کو جہاد کیلئے آمادہ کریں ۔ چنانچہ انہوں نے ایسے ہی کیا ۔ جس مجلس میں منصور لوگوں کو جہاد کیلئے آمادہ کررہے تھے کہ مجلس میں ایک برقعہ پوش عورت آئی اور آپ کے سامنے ایک اشرفی ڈال دی جس میں ایک خط بھی تھا۔ منصور نے وہ خط کھولا تو اس میں لکھا تھا کہ میں ایک عربی عورت ہوں اور مجھے خبر ملی ہے کہ اہل روم مسلمان عورتوں کو اغوا کرکے لے گئے اور آپ لوگوں کو جہاد کی ترغیب دے رہے ہیں۔ اس اشرفی میں میں نے اپنے سر کے بالوں کی چٹیا بنا کر ڈال دی ہے اور آپ کو خدا کی قسم دے کر کہتی ہوں کہ میرے ان سر کے بالوں سے جہاد میں جانے والے کسی گھوڑے کی لگام میں استعمال کر دیجئے ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالی میری اس حاللت کو دیکھ کر ہماری حالت پر رحمت فرمادیں۔ منصور نے جب یہ خط پڑھا تو خود بھی روئے اور اہل مجلس کو بھی رلایا۔ خلیفہ ہارون رشید نے جب مجلس کا یہ رنگ دیکھا تو اٹ...
اس لئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں ۔
- Get link
- X
- Other Apps
ایک دفعہ ایک بادشاہ کے سامنے ایک عالم ، ایک غریب، ایک عاشق اور ایک نابینا بیٹھے ہوئے تھے بڑے لوگوں کی تو باتیں بھی بڑی ہوا کرتی ہیں بادشاہ کہنے لگا : میں آپ کو ایک شعر کا دوسرا مصرع سنا دیتا ہوں آپ میں سے ہر شخص کو اس شعر کا دوسرا مصرع بنانا ہے اگر کوئی شخص پہلا مصرع نہ بنا سکا تو میں اس کا سر کاٹ ڈالوں گا ۔ چنانچہ ہر ایک کو بات ماننی پڑی اس کہ نہ ماننے میں جان کا خطرہ تھا ۔ بادشاہ کہنے لگا کہ شعر کا مصرع یہ ہے ۔ " اس لئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں اور عالم کی طرف متوجہ ہوا، عالم صاحب اپنی پسند کا دوسرا مصرع ذہن میں بنا کر کہنے لگے: بت پرستی دیں احمد میں آئی نہیں اس لئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں پھر غریب کی طرف متوجہ ہو کر مصرع پیش کرنے کا اشارہ کیا، غریب بھی اپنی پسند کا شعر بنا چکا تھا چنانچہ غریب کہنے لگا ...
تو غنی از ہر دو عالم من فقیر ( اے اللہ ! تو دو جہانوں کو عطا کرنے والا ہے جبکہ میں تیرا منگتا و فقیر ہوں۔ (علامہ اقبال مرحوم)
- Get link
- X
- Other Apps
تو غنی از ہر دو عالم من فقیر روز محشر عزر ہائے من پذیر ور حسابم را تو بینی نا گریز از نگاہ مصطفی پنہاں بگیر یہ رباعی علامہ اقبال مرحوم کی ہے۔ ایک شخص تھے محمد رمضان عطائی جن کا تعلق ڈیرہ غازی خان سے تھا ۔یہ علا مہ صاحب کے بڑے شیدائی تھے۔ یہ رباعی جب عطائی صاحب کو مولانا ابراہیم صاحب نے سنائی ، اور ایک عجیب پر کیف انداز میں سنائی کہ تو غنی از ہر دو عالم من فقیر ( اے اللہ ! تو دو جہانوں کو عطا کرنے والا ہے جبکہ میں تیرا منگتا و ...
روضہ اقدس کے سامنے
- Get link
- X
- Other Apps
محمد ہیں ،خدا ہے اور میں ہوں مدینہ طیبہ ہے اور میں ہوں بہار زیست کی رعنائیاں ہیں دیار مصطفی ہے اور میں ہوں سعادت کی سنہری ساعتیں ہیں شہادت کی دعا ہے اور میں ہوں فروزاں ہے یہں شمع رسالت رسالت کی ضیاہے اور میں ہوں خوشا قسمت کہ قسمت مہربان ہے غم روز جزا ہے اور میں ہوں مسافر وہ بنے جو رشک منزل حرم کا راستہ ہے اور میں ہوں بظاہر ہے سہانا خواب لیکن حقیقی واقعہ ہے اور میں ہوں مواجہ کی سنہری جالیوں پر دل شیدا فدا ہے اور میں ہوں سلاموں کے تسلسل کا اجالا درودوں کی ضیا ہے اور میں ہوں ندامت ہے دل عاصی پے طاری شفاعت مدعا ہے اور میں ہوں۔ اللہ رکھا