اس لئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں ۔
ایک دفعہ ایک بادشاہ کے سامنے ایک عالم ، ایک غریب، ایک عاشق اور ایک نابینا بیٹھے ہوئے تھے بڑے لوگوں کی تو باتیں بھی بڑی ہوا کرتی ہیں بادشاہ کہنے لگا : میں آپ کو ایک شعر کا دوسرا مصرع سنا دیتا ہوں آپ میں سے ہر شخص کو اس شعر کا دوسرا مصرع بنانا ہے اگر کوئی شخص پہلا مصرع نہ بنا سکا تو میں اس کا سر کاٹ ڈالوں گا ۔ چنانچہ ہر ایک کو بات ماننی پڑی اس کہ نہ ماننے میں جان کا خطرہ تھا ۔ بادشاہ کہنے لگا کہ شعر کا مصرع یہ ہے ۔
بت پرستی دیں احمد میں آئی نہیں
مانگتے ہیں پیسے مصور، جیب میں پائی نہیں
ایک سے جب دو ہوئے پھر لطف یکتائی نہیں
" اس لئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں
اور عالم کی طرف متوجہ ہوا، عالم صاحب اپنی پسند کا دوسرا مصرع ذہن میں بنا کر کہنے لگے:
بت پرستی دیں احمد میں آئی نہیں
اس لئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں
پھر غریب کی طرف متوجہ ہو کر مصرع پیش کرنے کا اشارہ کیا، غریب بھی اپنی پسند کا شعر بنا چکا تھا چنانچہ غریب کہنے لگا
مانگتے ہیں پیسے مصور، جیب میں پائی نہیں
اس لئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں
جب باری آئی عاشق کی تو باد شاہ کے اشارے پر عاشق بھی بے ساختہ بول پڑاِ
ایک سے جب دو ہوئے پھر لطف یکتائی نہیں
اس لئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں
نابینا نے کہاِ
مجحھ میں بنائی نہیں اور اس میں گویائی نہیں
اس لئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں
Comments
Post a Comment