ایک بہادر خاتوں کی داستان شجاعت
حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت صہیب بن سلمہ رضی اللہ عنہ کو اس لشکر کا قائد بنایا جو روم کے مقابلہ کے لیے تیار کیا گیا تھا اس لیے کہ اہل روم نے مسلمانوں کو اذیت پہنچائی تھی۔ حضرت صیہیب بن سلمہ رضی اللہ عنہ کی بیوی اسی لشکر میں تھیں۔ جنگ شروع شروع ہونے سے پہلے حضرت صہیب رضی اللہ عنہ لشکر کا معائنہ کرتے ہوئے اپنی بیوی کے سامنے سے گزرے تو بیوی نے ان سے پوچھا کہ جب جنگ شروع ہو جائے گی اور گھمسان کی حالت ہو گی تو میں تمہیں کہاں پاوں گی؟ حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے جواب دیا تم مجھے روم کے بادشاہ کے خیمے میں پاو گی یا جنت میں
جب گھمسان کی جنگ شروع ہوئی تو حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے کمال بہادری کے جوہر دکھائے حتی کہ اللہ تعالی نے مسلمانوں پر نصرت بھیجی تو حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے دوڑتے ہوئے روم کے سربراہ کے خیمہ میں داخل ہونا چاہا، آپ جیسے ہی خیمہ میں داخل ہوئے ان کے تعجب سے رونگٹے کھڑے ہو گئے دیکھا کہ خیمہ میں ان کی بیوی ان سے پہلے خیمہ میں داخل ہو کر شہید ہو چکی ہے۔ ایک بہادر خاتون کی داستان شجاعت
جب گھمسان کی جنگ شروع ہوئی تو حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے کمال بہادری کے جوہر دکھائے حتی کہ اللہ تعالی نے مسلمانوں پر نصرت بھیجی تو حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے دوڑتے ہوئے روم کے سربراہ کے خیمہ میں داخل ہونا چاہا، آپ جیسے ہی خیمہ میں داخل ہوئے ان کے تعجب سے رونگٹے کھڑے ہو گئے دیکھا کہ خیمہ میں ان کی بیوی ان سے پہلے خیمہ میں داخل ہو کر شہید ہو چکی ہے۔ ایک بہادر خاتون کی داستان شجاعت
Comments
Post a Comment