روضہ اقدس کے سامنے
محمد ہیں ،خدا ہے اور میں ہوں
مدینہ طیبہ ہے اور میں ہوں
بہار زیست کی رعنائیاں ہیں
دیار مصطفی ہے اور میں ہوں
سعادت کی سنہری ساعتیں ہیں
شہادت کی دعا ہے اور میں ہوں
فروزاں ہے یہں شمع رسالت
رسالت کی ضیاہے اور میں ہوں
خوشا قسمت کہ قسمت مہربان ہے
غم روز جزا ہے اور میں ہوں
مسافر وہ بنے جو رشک منزل
حرم کا راستہ ہے اور میں ہوں
بظاہر ہے سہانا خواب لیکن
حقیقی واقعہ ہے اور میں ہوں
مواجہ کی سنہری جالیوں پر
دل شیدا فدا ہے اور میں ہوں
سلاموں کے تسلسل کا اجالا
درودوں کی ضیا ہے اور میں ہوں
ندامت ہے دل عاصی پے طاری
شفاعت مدعا ہے اور میں ہوں۔
اللہ رکھا
Comments
Post a Comment