https://youtu.be/zNyneWjaNjQ
تو غنی از ہر دو عالم من فقیر ( اے اللہ ! تو دو جہانوں کو عطا کرنے والا ہے جبکہ میں تیرا منگتا و فقیر ہوں۔ (علامہ اقبال مرحوم)
تو غنی از ہر دو عالم من فقیر روز محشر عزر ہائے من پذیر ور حسابم را تو بینی نا گریز از نگاہ مصطفی پنہاں بگیر یہ رباعی علامہ اقبال مرحوم کی ہے۔ ایک شخص تھے محمد رمضان عطائی جن کا تعلق ڈیرہ غازی خان سے تھا ۔یہ علا مہ صاحب کے بڑے شیدائی تھے۔ یہ رباعی جب عطائی صاحب کو مولانا ابراہیم صاحب نے سنائی ، اور ایک عجیب پر کیف انداز میں سنائی کہ تو غنی از ہر دو عالم من فقیر ( اے اللہ ! تو دو جہانوں کو عطا کرنے والا ہے جبکہ میں تیرا منگتا و ...
*وہ تاریخ رقم کر گئے*۔ 14 صدیاں گزرنے کے بعد وہی فتح مکہ کا سماں پیدا کرگئے۔ ہر ایک کےلیے عام معافی کا اعلان کر دیا۔ یہاں تک کہ سیاسی حریفوں کو بھی معاف کر دیا، افغان دارلخلافہ کابل بغیر تلوار کے فتح کر دیا۔ بھاگنے والے بھاگ گئے۔ بےشک۔ القران! اے نبی ﷺ، ایمان والوں کو جنگ کی ترغیب دیجیے۔تم میں سے اگر بیس ثابت قدم رہے تو وہ دو سو پر غالب آئیں گے۔ اور الحمد اللہ! قرآن کا اعجاز آج دنیا نے دیکھ لیا۔
ReplyDeleteاسلام زندہ باد
طالبان زندہ باد