حضور پاک ﷺ بحیثیت شوہر
حضور پاک ﷺ بحیثیت شوہر
اللہ تعالی نے قرآن پاک میں فرمایا: رسول اللہ (ﷺ)میں تمہارے لئے بہترین نمونہ ہے۔ (الاحزاب) آییڈیل اور نمونہ یقینا ایسی ہی ہستی ہوسکتی ہے جو زندگی کے ہرپہلو اورشعبہ میں جامعیت اور کمال رکھتی ہو۔ اگر ایسی کوئی کامل و اکمل ہستی ہے ۔تو وہ محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔
جس طرح آپ کی یہ صفت زندگی کے تمام شعبوں میں ہے۔اسی طرح یہ ازدواجی زندگی میں بھی آپ میں نمایاں نظر آتی ہے۔ آئیے ہم دیکھتے چلیں کہ آپ ﷺہمارے لئے شوہر کے روپ میں کس طرح نمونہ ہیں؟
خاطرداری و دلجوئی
مرد کی شادی ایک ایسی عورت سے ہوتی ہے،۔ جو شادی کے بعد وہ ایک ایسے اجنبی ماحول میں آجاتی ہے، جہاں کا کبھی اُس نے خواب بھی نہیں دیکھا ہوتا ہے، جہاں کی ہر چیز نامانوس ہوتی ہے۔ ایسے وقت میں دلداری کی ضرورت پڑتی ہے، خصوصیت کے ساتھ اس خاتون کے ساتھ، جو ناکتخدا ہو۔
آپ ﷺکی گیارہ بیویاں تھیں، جن میں حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا)واحد ناکتخدا تھیں؛ چنانچہ آپ ﷺنے شادی کے بعد یہاں کے ماحول سے مانوس کرنے کے لئے ان کی کافی دل جوئی کی، حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا)خود فرماتی ہیں: کُنْتُ أَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ عِنْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَکَانَ لِی صَوَاحِبُ یَلْعَبْنَ مَعِی، فَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ یَتَقَمَّعْنَ مِنْہُ، فَیُسَرِّبُہُنَّ إِلَیَّ فَیَلْعَبْنَ مَعِی(بخاری)میں آپ کے یہاں گڑیوں سے کھیلا کرتی تھی اور میرے ساتھ میری سہیلیاں بھی ہوتی تھیں، جب رسول اللہ ﷺ گھر میں داخل ہوتے، تو وہ شرماتیں اور پردہ میں داخل ہوجاتیں، آپ انہیں میرے پاس بھیج دیتے تو وہ میرے ساتھ کھیلتیں۔(بخاری)
ایک مرتبہ آپ ﷺنے حضرت حفصہ رضی اللہ عنھا کی دلجوئی کیلئے اپنی جائز باندی کو اپنے اوپر حرام قرار دیا۔جس پر سورۃ تحریم کی آیات نازل ہوئیں۔
حضرت سودہ بنت زمعہ(رضی اللہ عنہا)کو آپ ﷺنے (کسی وجہ سے)طلاق دینے کا ارادہ فرمایا تو انہوں نے آپ ﷺسے عرض کیا:مجھے طلاق مت دیجئے اور اپنے نکاح میں روکے رکھئے اور میری باری عائشہ (رضی اللہ عنہا)کو دے دیجئے۔ (ترمذی)آپ ﷺنے ان کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے ایسا ہی کیااوراُن کوطلاق نہیں دی۔
حضرت عائشہ(رضی اللہ عنہا) فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ میرے دروازے پر کھڑے تھے اور حبش کے لوگ نیزہ بازی کررہے تھے، آپ انے اپنی چادر میں مجھے چھپالیاتا کہ میں آپ ﷺکے کانوں اور گردن کے درمیان سے ان کا کھیل دیکھ سکوں، آپ میری وجہ سے کھڑے رہے؛یہاں تک کہ میں خود لوٹ آئی۔(مسند احمد)
ان مثالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ بحیثیت شوہر اپنی ازواج کی کس قدردلجوئی فرماتے تھے۔
نفقہ کی ادائیگی
ازدواجی بندھن میں بندھ جانے کے بعد بیوی کا نفقہ ہر مرد پر لازم ہوجاتا ہے، آپ ﷺ اپنی بیویوں کا نفقہ قبل ازوقت دے دیا کرتے تھے۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بنونضیرسے جومالِ غنیمت آتاوہ آپ ﷺ کے لئے خاص تھااورآپ ﷺاس سے سال بھراپنی ازواج پرخرچ کرتے تھے۔(مسلم)
مشورہ
آپ ﷺ بسااوقات بہت ہی اہم امور پر بھی اپنی بیویوں سے مشورہ لیتے اور اس پر عمل بھی کرتے تھے، صلح حدیبیہ کے موقع پر صحابہ نے گھٹن کی کیفیت میں مبتلا ہوکر آپ کے کہنے کے باوجود جب حلق نہیں کرایا تو حضرت امِ سلمہ (رضی اللہ عنہا)نے آپ کو یہ مشورہ دیاکہ آپ خود حلق کرائیں اور ان سے ایک لفظ کہے بغیر ہدی کے جانور نحرکریں، آپ ﷺ نے ان کے اس مشورہ پر عمل کیا، جب صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین نے آپ کو حلق کرواتے اور جانور نحر کرتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے بھی حلق کرالیا اور اپنے ہدی کے جانور ذبح کئے(بخاری)
بیویوں کے مابین عدل وانصاف
حضور اکرم ا کی ازواج کی تعداد گیارہ تھی؛لیکن ایک وقت میں آپ ﷺکے پاس نوسے زیادہ نہیں رہیں، آپ ﷺنے ہر ایک کے لئے باری متعین کررکھی تھی تا کہ کسی بھی بیوی کو کسی طرح کی تکلیف نہ ہو البتہ آخر ی عمرمیں حضرت سودہ (رضی اللہ عنہا)نے اپنی باری حضرت عائشہ(رضی اللہ عنہا)کو دے دی تھی چنانچہ آپ ﷺان کے پاس دو دن تشریف لے جاتے تھے۔(شرح مشکل الاثار)
آپ ﷺکی بیویوں میں سے کسی کو یہ شکایت کبھی نہیں ہوئی کہ آپ ﷺہمارے درمیان عدل نہیں کرتے، خود حضرت عائشہ(رضی اللہ عنہا) اپنے بھانجے عروہ کو مخاطب کرکے فرماتی ہیں: کان رسول اللّٰہ ا لا یفضل بعضنا علی بعض فی القسم من مکثہ عندنا۔(ابوداود)رسو ل اللہ ا ہمارے پاس ٹھہرنے کی تقسیم میں کسی کو کسی پر ترجیح نہیں دیتے تھے؛حتی کہ ایک بیوی کی باری میں دوسری بیوی سے مس تک گوارا نہیں فرماتے؛ چنانچہ حضرت انس رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ کا واقعہ نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺحضرت عائشہ(رضی اللہ عنہا) کے گھر تشریف فرما تھے، حضرت زینب (رضی اللہ عنہا)نے آپ ﷺکی طرف اپنا ہاتھ دراز کیا، حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) نے آگاہ کرتے ہوئے کہا:یہ زینب ہیں، آپ ا نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔(مسلم)البتہ آپ کا یہ عدل مقدور چیزوں (باری، کھانا، کپڑا، رہائش وغیرہ) میں تھا، غیر مقدور چیزوں کے سلسلہ میں آپ ﷺخود دعاء فرماتے تھے:اللّٰھم ھذا قسمی فیما املک، فلا تلمنی فیما تملک ولا املک۔(السنن الکبری للبیھقی)اے اللہ اس چیز میں یہ میری تقسیم ہے، جس پر میں قدرت رکھتا ہوں، آپ اس چیز پر میری ملامت نہ کیجئے، جس پر آپ قدرت رکھتے ہیں، میں نہیں۔
جس میں بیوی کے درمیان عدل نہ کرنے کی صورت میں تہدید آئی ہے، آپ ﷺکا فرمان ہے: من کانت لہ امراتا ن، فمال الی احدھما، جاء یوم القیامۃ، وشقہ مائل۔(سنن الدارمی)جس کی دو بیویاں ہوں اور وہ ان میں سے ایک کی طرف جھک جائے تو وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس کا ایک پہلوگرا ہوا ہوگا۔
مارپیٹ سے اجتناب
حضور ﷺا کثیرالزوجات تھے، انسانی مزاج رکھنے والی ازواج سے کیا کیا لغزشیں وجود میں نہیں آتی ہوں گی؟ لیکن قربان جائیے ذات اقدس پر!کیسی بھی غلطی ہوتی، اس کی اصلاح میں کبھی بھی کسی بیوی پر ہاتھ نہیں اٹھاتے، حضرت عائشہ(رضی اللہ عنہا) فرماتی ہیں:ماضرب رسول اللہ ا خادما ولا امراۃ قط۔ (ابوداود) آپ ﷺنے کبھی بھی کسی خادم کو اور ناہی کسی بیوی کو مارا۔تاہم آپ ا نے بطور سرزنش بیوی کے لئے ہلکی مار کی اجازت بھی دی ہے؛ لیکن یہ سرزنش ہر چھوٹی بات پر نہیں بلکہ عدم اطاعت، سوء عشرت اور زبان درازی جیسے افعال پر ہے؛چنانچہ آپ ا نے فرمایا: عورتوں کے ساتھ بہتر سلوک کرنے کی وصیت قبول کرو، بلاشبہ وہ تمہارے پاس مددگار ہیں، تم ان کی کسی چیز کے مالک نہیں ہو، الا یہ کہ وہ کھلی ہوئی بے حیائی کریں، اگر وہ ایسا کریں تو ان کے بستروں پر الگ چھوڑ دواور ان کو غیر تکلیف دہ مار مارو۔(ترمذی)اس حدیث میں آپ ﷺنے تکلیف دہ مار مارنے سے منع فرمایا ہے، جب کہ دوسری حدیث میں آپ ﷺنے چہرے پر بھی مارنے سے روکا ہے، آپ ﷺنے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مارے تو چہرے سے پرہیز کرے اور اللہ تیرے چہرے کو قبیح بنائے جیسے جملے بھی نہ کہے کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو اس کی صورت پر بنایاہے۔(مسند احمد)
غصہ اور ناراضگی
میاں بیوی ہر وقت ساتھ رہتے ہیں اور جہاں دائمی مصاحبت ہوتی ہے وہاں کبھی کبھی آپس میں اَنْ بَنْ بھی ہوجایا کرتی ہے، آپ اﷺیوں تو اپنی ازواج کا بہت زیادہ خیال فرماتے تھے لیکن بے جا ضد اور اصرار پر ان سے ناراض بھی ہوتے تھے چنانچہ جب ایک مرتبہ ازواج مطہرات نے نفقہ وغیرہ کے مطالبہ پر اصرار کیا تو آپ ا ان سے ناراض ہوگئے اور ایک مہینے تک ایلاء (گھرکی بالائی حصہ پرقیام فرمایا اوراس دوران کسی بھی زوجہ سے کسی طرح کاربط نہیں رکھا)فرمالیا۔(بخاری)آپ ﷺکے اس عمل سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ بیوی کی ہر جائز اور ناجائز بات اور مطالبہ کو تسلیم نہیں کرنا چاہئے اور جہاں پر بیوی کی طرف سے اس طرح کی بیجاضد اور ہٹ دھرمی نظرآئے، وہاں پر برسبیلِ اصلاح اور تنبیہ ناراضگی کا اظہار بھی کیا جاناچاہئے کہ اعتدال کی راہ یہی ہے۔
قصہ گوئی
بیوی انسانی مزاج رکھتی ہے اور انسانی مزاج کبھی کبھی مزاح اور قصہ گوئی جیسی دل چسپییوں کا خواہشمند ہوتا ہے، آپ ا نے اپنی ازواج کے ساتھ اس کی بھی رعایت کی ہے؛چنانچہ ایک رات آپ ا نے اپنی بیویوں کو ایک قصہ سنایا، یہ قصہ تعجب خیزتھا، چنانچہ بیویوں میں سے کسی نے کہا یہ تو (تعجب میں)خرافہ کے قصوں کی طرح ہے، آپ ا نے اس پر خرافہ سے متعلق دریافت فرماکراس کے بارے میں بتایا کہ وہ بنوعذرہ کا ایک شخص تھا،زمانہ جاہلیت میں جنات اسے پکڑکر لے گئے تھے، پھرایک مدت کے بعد اسے انسانوں میں لاکر چھوڑدیا، اب وہ وہاں کی عجیب عجیب باتیں بتایا کرتا تھا(مسند احمد)۔اسی طرح حضرت عائشہ ؓ نے بھی آپ کو یمن کی گیارہ عورتوں کے بارے میں قصہ سنایا تھا(شمائل ترمذی)اورآپ ﷺنے حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا)کی یہ پوری کہانی بھی سنی تھی اور اخیرمیں یہ فرمایا تھا کہ میں تمہارے لئے ابوذرع کی طرح ہوں؛البتہ میں تمہیں طلاق نہیں دوں گا۔
آپ ا کے اس قصہ گوئی اور قصہ سننے کے عمل سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بیویوں کی دلجوئی اور خاطرداری کے لئے کبھی کبھی صدق پر مبنی قصے اور کہانیاں بھی سنانے چاہئیں کہ یہ چیزیں محبت اور الفت میں زیادتی کا باعث بنتی ہیں۔
عبادت کی ترغیب
آپ ﷺجس طرح دیگرچیزوں میں ازواج مطہرات کی رعایت اورخیال فرماتے تھے، عبادت کے باب میں بھی ان کاخیال فرماتے تھے۔ آپ ﷺکی ذاتِ گرامی توعبادت کی مشقتوں کے تحمل میں اعلیٰ نمونہ تھی ہی، آپ ﷺکی ازواج بھی اِس باب میں پیچھے نہیں رہتی تھیں؛ چنانچہ ایک مرتبہ کاواقعہ ہے کہ آپ ا نے اعتکاف کے لئے خیمہ لگوایا، آپ ﷺکودیکھ کرکئی ازواج نے بھی خیمے نصب کروالئے۔ (الموطاء للإمام مالک)
آپ خود بھی اس کی ترغیب دیتے تھے۔ حضرت ام سلمہ(رضی اللہ عنہا) فرماتی ہیں کہ ایک رات آپ ﷺنے فرمایا: اللہ کی ذات پاک ہے! کیسے کیسے خزا نے اورفتنے اللہ نے اتارے! حجرے والیوں کوجگاو۔(صحیح ابن حبان)، حضرت عائشہ(رضی اللہ عنہا) فرماتی ہیں کہ جب رمضان کاآخری عشرہ آجاتاتوآپ اﷺازارکس لیتے، خودشب بیداری فرماتے اوراپنی ازواج کوبھی جگاتے۔(بخاری)
آج ہم دنیاوی معاملات میں اپنی بیویوں کی فکرتوبہت زیادہ کرتے ہیں لیکن دین کے باب یاتوفکرہی نہیں کرتے یاتساہل پسندی سے کام لیتے ہیں حالاں کہ یہی آخرت کے سفرمیں کام آنے والا توشہ اورزادِراہ ہے۔آپ ا کے اسوہ سے ہمیں عبادت کے باب میں اپنی بیویوں کے رعایت کرنے کاسبق حاصل کرناچاہئے اوراس باب میں دنیاوی توجہات سے کہیں زیادہ فکرکرنی چاہئے۔
ابو محمد اللہ رکھازین مدرس جامعہ قادریہ حنفیہ صادق آباد ملز ملتان03077188858
اللہ تعالی نے قرآن پاک میں فرمایا: رسول اللہ (ﷺ)میں تمہارے لئے بہترین نمونہ ہے۔ (الاحزاب) آییڈیل اور نمونہ یقینا ایسی ہی ہستی ہوسکتی ہے جو زندگی کے ہرپہلو اورشعبہ میں جامعیت اور کمال رکھتی ہو۔ اگر ایسی کوئی کامل و اکمل ہستی ہے ۔تو وہ محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔
جس طرح آپ کی یہ صفت زندگی کے تمام شعبوں میں ہے۔اسی طرح یہ ازدواجی زندگی میں بھی آپ میں نمایاں نظر آتی ہے۔ آئیے ہم دیکھتے چلیں کہ آپ ﷺہمارے لئے شوہر کے روپ میں کس طرح نمونہ ہیں؟
خاطرداری و دلجوئی
مرد کی شادی ایک ایسی عورت سے ہوتی ہے،۔ جو شادی کے بعد وہ ایک ایسے اجنبی ماحول میں آجاتی ہے، جہاں کا کبھی اُس نے خواب بھی نہیں دیکھا ہوتا ہے، جہاں کی ہر چیز نامانوس ہوتی ہے۔ ایسے وقت میں دلداری کی ضرورت پڑتی ہے، خصوصیت کے ساتھ اس خاتون کے ساتھ، جو ناکتخدا ہو۔
آپ ﷺکی گیارہ بیویاں تھیں، جن میں حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا)واحد ناکتخدا تھیں؛ چنانچہ آپ ﷺنے شادی کے بعد یہاں کے ماحول سے مانوس کرنے کے لئے ان کی کافی دل جوئی کی، حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا)خود فرماتی ہیں: کُنْتُ أَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ عِنْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَکَانَ لِی صَوَاحِبُ یَلْعَبْنَ مَعِی، فَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ یَتَقَمَّعْنَ مِنْہُ، فَیُسَرِّبُہُنَّ إِلَیَّ فَیَلْعَبْنَ مَعِی(بخاری)میں آپ کے یہاں گڑیوں سے کھیلا کرتی تھی اور میرے ساتھ میری سہیلیاں بھی ہوتی تھیں، جب رسول اللہ ﷺ گھر میں داخل ہوتے، تو وہ شرماتیں اور پردہ میں داخل ہوجاتیں، آپ انہیں میرے پاس بھیج دیتے تو وہ میرے ساتھ کھیلتیں۔(بخاری)
ایک مرتبہ آپ ﷺنے حضرت حفصہ رضی اللہ عنھا کی دلجوئی کیلئے اپنی جائز باندی کو اپنے اوپر حرام قرار دیا۔جس پر سورۃ تحریم کی آیات نازل ہوئیں۔
حضرت سودہ بنت زمعہ(رضی اللہ عنہا)کو آپ ﷺنے (کسی وجہ سے)طلاق دینے کا ارادہ فرمایا تو انہوں نے آپ ﷺسے عرض کیا:مجھے طلاق مت دیجئے اور اپنے نکاح میں روکے رکھئے اور میری باری عائشہ (رضی اللہ عنہا)کو دے دیجئے۔ (ترمذی)آپ ﷺنے ان کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے ایسا ہی کیااوراُن کوطلاق نہیں دی۔
حضرت عائشہ(رضی اللہ عنہا) فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ میرے دروازے پر کھڑے تھے اور حبش کے لوگ نیزہ بازی کررہے تھے، آپ انے اپنی چادر میں مجھے چھپالیاتا کہ میں آپ ﷺکے کانوں اور گردن کے درمیان سے ان کا کھیل دیکھ سکوں، آپ میری وجہ سے کھڑے رہے؛یہاں تک کہ میں خود لوٹ آئی۔(مسند احمد)
ان مثالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ بحیثیت شوہر اپنی ازواج کی کس قدردلجوئی فرماتے تھے۔
نفقہ کی ادائیگی
ازدواجی بندھن میں بندھ جانے کے بعد بیوی کا نفقہ ہر مرد پر لازم ہوجاتا ہے، آپ ﷺ اپنی بیویوں کا نفقہ قبل ازوقت دے دیا کرتے تھے۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بنونضیرسے جومالِ غنیمت آتاوہ آپ ﷺ کے لئے خاص تھااورآپ ﷺاس سے سال بھراپنی ازواج پرخرچ کرتے تھے۔(مسلم)
مشورہ
آپ ﷺ بسااوقات بہت ہی اہم امور پر بھی اپنی بیویوں سے مشورہ لیتے اور اس پر عمل بھی کرتے تھے، صلح حدیبیہ کے موقع پر صحابہ نے گھٹن کی کیفیت میں مبتلا ہوکر آپ کے کہنے کے باوجود جب حلق نہیں کرایا تو حضرت امِ سلمہ (رضی اللہ عنہا)نے آپ کو یہ مشورہ دیاکہ آپ خود حلق کرائیں اور ان سے ایک لفظ کہے بغیر ہدی کے جانور نحرکریں، آپ ﷺ نے ان کے اس مشورہ پر عمل کیا، جب صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین نے آپ کو حلق کرواتے اور جانور نحر کرتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے بھی حلق کرالیا اور اپنے ہدی کے جانور ذبح کئے(بخاری)
بیویوں کے مابین عدل وانصاف
حضور اکرم ا کی ازواج کی تعداد گیارہ تھی؛لیکن ایک وقت میں آپ ﷺکے پاس نوسے زیادہ نہیں رہیں، آپ ﷺنے ہر ایک کے لئے باری متعین کررکھی تھی تا کہ کسی بھی بیوی کو کسی طرح کی تکلیف نہ ہو البتہ آخر ی عمرمیں حضرت سودہ (رضی اللہ عنہا)نے اپنی باری حضرت عائشہ(رضی اللہ عنہا)کو دے دی تھی چنانچہ آپ ﷺان کے پاس دو دن تشریف لے جاتے تھے۔(شرح مشکل الاثار)
آپ ﷺکی بیویوں میں سے کسی کو یہ شکایت کبھی نہیں ہوئی کہ آپ ﷺہمارے درمیان عدل نہیں کرتے، خود حضرت عائشہ(رضی اللہ عنہا) اپنے بھانجے عروہ کو مخاطب کرکے فرماتی ہیں: کان رسول اللّٰہ ا لا یفضل بعضنا علی بعض فی القسم من مکثہ عندنا۔(ابوداود)رسو ل اللہ ا ہمارے پاس ٹھہرنے کی تقسیم میں کسی کو کسی پر ترجیح نہیں دیتے تھے؛حتی کہ ایک بیوی کی باری میں دوسری بیوی سے مس تک گوارا نہیں فرماتے؛ چنانچہ حضرت انس رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ کا واقعہ نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺحضرت عائشہ(رضی اللہ عنہا) کے گھر تشریف فرما تھے، حضرت زینب (رضی اللہ عنہا)نے آپ ﷺکی طرف اپنا ہاتھ دراز کیا، حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) نے آگاہ کرتے ہوئے کہا:یہ زینب ہیں، آپ ا نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔(مسلم)البتہ آپ کا یہ عدل مقدور چیزوں (باری، کھانا، کپڑا، رہائش وغیرہ) میں تھا، غیر مقدور چیزوں کے سلسلہ میں آپ ﷺخود دعاء فرماتے تھے:اللّٰھم ھذا قسمی فیما املک، فلا تلمنی فیما تملک ولا املک۔(السنن الکبری للبیھقی)اے اللہ اس چیز میں یہ میری تقسیم ہے، جس پر میں قدرت رکھتا ہوں، آپ اس چیز پر میری ملامت نہ کیجئے، جس پر آپ قدرت رکھتے ہیں، میں نہیں۔
جس میں بیوی کے درمیان عدل نہ کرنے کی صورت میں تہدید آئی ہے، آپ ﷺکا فرمان ہے: من کانت لہ امراتا ن، فمال الی احدھما، جاء یوم القیامۃ، وشقہ مائل۔(سنن الدارمی)جس کی دو بیویاں ہوں اور وہ ان میں سے ایک کی طرف جھک جائے تو وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس کا ایک پہلوگرا ہوا ہوگا۔
مارپیٹ سے اجتناب
حضور ﷺا کثیرالزوجات تھے، انسانی مزاج رکھنے والی ازواج سے کیا کیا لغزشیں وجود میں نہیں آتی ہوں گی؟ لیکن قربان جائیے ذات اقدس پر!کیسی بھی غلطی ہوتی، اس کی اصلاح میں کبھی بھی کسی بیوی پر ہاتھ نہیں اٹھاتے، حضرت عائشہ(رضی اللہ عنہا) فرماتی ہیں:ماضرب رسول اللہ ا خادما ولا امراۃ قط۔ (ابوداود) آپ ﷺنے کبھی بھی کسی خادم کو اور ناہی کسی بیوی کو مارا۔تاہم آپ ا نے بطور سرزنش بیوی کے لئے ہلکی مار کی اجازت بھی دی ہے؛ لیکن یہ سرزنش ہر چھوٹی بات پر نہیں بلکہ عدم اطاعت، سوء عشرت اور زبان درازی جیسے افعال پر ہے؛چنانچہ آپ ا نے فرمایا: عورتوں کے ساتھ بہتر سلوک کرنے کی وصیت قبول کرو، بلاشبہ وہ تمہارے پاس مددگار ہیں، تم ان کی کسی چیز کے مالک نہیں ہو، الا یہ کہ وہ کھلی ہوئی بے حیائی کریں، اگر وہ ایسا کریں تو ان کے بستروں پر الگ چھوڑ دواور ان کو غیر تکلیف دہ مار مارو۔(ترمذی)اس حدیث میں آپ ﷺنے تکلیف دہ مار مارنے سے منع فرمایا ہے، جب کہ دوسری حدیث میں آپ ﷺنے چہرے پر بھی مارنے سے روکا ہے، آپ ﷺنے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مارے تو چہرے سے پرہیز کرے اور اللہ تیرے چہرے کو قبیح بنائے جیسے جملے بھی نہ کہے کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو اس کی صورت پر بنایاہے۔(مسند احمد)
غصہ اور ناراضگی
میاں بیوی ہر وقت ساتھ رہتے ہیں اور جہاں دائمی مصاحبت ہوتی ہے وہاں کبھی کبھی آپس میں اَنْ بَنْ بھی ہوجایا کرتی ہے، آپ اﷺیوں تو اپنی ازواج کا بہت زیادہ خیال فرماتے تھے لیکن بے جا ضد اور اصرار پر ان سے ناراض بھی ہوتے تھے چنانچہ جب ایک مرتبہ ازواج مطہرات نے نفقہ وغیرہ کے مطالبہ پر اصرار کیا تو آپ ا ان سے ناراض ہوگئے اور ایک مہینے تک ایلاء (گھرکی بالائی حصہ پرقیام فرمایا اوراس دوران کسی بھی زوجہ سے کسی طرح کاربط نہیں رکھا)فرمالیا۔(بخاری)آپ ﷺکے اس عمل سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ بیوی کی ہر جائز اور ناجائز بات اور مطالبہ کو تسلیم نہیں کرنا چاہئے اور جہاں پر بیوی کی طرف سے اس طرح کی بیجاضد اور ہٹ دھرمی نظرآئے، وہاں پر برسبیلِ اصلاح اور تنبیہ ناراضگی کا اظہار بھی کیا جاناچاہئے کہ اعتدال کی راہ یہی ہے۔
قصہ گوئی
بیوی انسانی مزاج رکھتی ہے اور انسانی مزاج کبھی کبھی مزاح اور قصہ گوئی جیسی دل چسپییوں کا خواہشمند ہوتا ہے، آپ ا نے اپنی ازواج کے ساتھ اس کی بھی رعایت کی ہے؛چنانچہ ایک رات آپ ا نے اپنی بیویوں کو ایک قصہ سنایا، یہ قصہ تعجب خیزتھا، چنانچہ بیویوں میں سے کسی نے کہا یہ تو (تعجب میں)خرافہ کے قصوں کی طرح ہے، آپ ا نے اس پر خرافہ سے متعلق دریافت فرماکراس کے بارے میں بتایا کہ وہ بنوعذرہ کا ایک شخص تھا،زمانہ جاہلیت میں جنات اسے پکڑکر لے گئے تھے، پھرایک مدت کے بعد اسے انسانوں میں لاکر چھوڑدیا، اب وہ وہاں کی عجیب عجیب باتیں بتایا کرتا تھا(مسند احمد)۔اسی طرح حضرت عائشہ ؓ نے بھی آپ کو یمن کی گیارہ عورتوں کے بارے میں قصہ سنایا تھا(شمائل ترمذی)اورآپ ﷺنے حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا)کی یہ پوری کہانی بھی سنی تھی اور اخیرمیں یہ فرمایا تھا کہ میں تمہارے لئے ابوذرع کی طرح ہوں؛البتہ میں تمہیں طلاق نہیں دوں گا۔
آپ ا کے اس قصہ گوئی اور قصہ سننے کے عمل سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بیویوں کی دلجوئی اور خاطرداری کے لئے کبھی کبھی صدق پر مبنی قصے اور کہانیاں بھی سنانے چاہئیں کہ یہ چیزیں محبت اور الفت میں زیادتی کا باعث بنتی ہیں۔
عبادت کی ترغیب
آپ ﷺجس طرح دیگرچیزوں میں ازواج مطہرات کی رعایت اورخیال فرماتے تھے، عبادت کے باب میں بھی ان کاخیال فرماتے تھے۔ آپ ﷺکی ذاتِ گرامی توعبادت کی مشقتوں کے تحمل میں اعلیٰ نمونہ تھی ہی، آپ ﷺکی ازواج بھی اِس باب میں پیچھے نہیں رہتی تھیں؛ چنانچہ ایک مرتبہ کاواقعہ ہے کہ آپ ا نے اعتکاف کے لئے خیمہ لگوایا، آپ ﷺکودیکھ کرکئی ازواج نے بھی خیمے نصب کروالئے۔ (الموطاء للإمام مالک)
آپ خود بھی اس کی ترغیب دیتے تھے۔ حضرت ام سلمہ(رضی اللہ عنہا) فرماتی ہیں کہ ایک رات آپ ﷺنے فرمایا: اللہ کی ذات پاک ہے! کیسے کیسے خزا نے اورفتنے اللہ نے اتارے! حجرے والیوں کوجگاو۔(صحیح ابن حبان)، حضرت عائشہ(رضی اللہ عنہا) فرماتی ہیں کہ جب رمضان کاآخری عشرہ آجاتاتوآپ اﷺازارکس لیتے، خودشب بیداری فرماتے اوراپنی ازواج کوبھی جگاتے۔(بخاری)
آج ہم دنیاوی معاملات میں اپنی بیویوں کی فکرتوبہت زیادہ کرتے ہیں لیکن دین کے باب یاتوفکرہی نہیں کرتے یاتساہل پسندی سے کام لیتے ہیں حالاں کہ یہی آخرت کے سفرمیں کام آنے والا توشہ اورزادِراہ ہے۔آپ ا کے اسوہ سے ہمیں عبادت کے باب میں اپنی بیویوں کے رعایت کرنے کاسبق حاصل کرناچاہئے اوراس باب میں دنیاوی توجہات سے کہیں زیادہ فکرکرنی چاہئے۔
ابو محمد اللہ رکھازین مدرس جامعہ قادریہ حنفیہ صادق آباد ملز ملتان03077188858
Comments
Post a Comment