حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم غیروں کی نظر میں
فقط مسلم کا محمدصلی اللہ علیہ وسلم پہ اجارہ تو نہیں
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلمایک باکمال شخص تھے۔بچپن سے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حال تھا کہ جو دیکھتا کہہ اٹھتا: ان لھذا الغلام لشأنا۔ بڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت اور زیادہ نمایاں ہوگئی۔آپصلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مرعوب ہوجاتے۔جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوتا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے لگتا۔برداشت، سچائی معاملہ فہمی، حسن سلوک آپ کے اندر کامل درجہ میں پایا جاتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کردار اور سیرت کا وہ نمونہ پیش کیا جس کا اعتراف اپنوں نے تو کیا ہی غیر بھی اعتراف کیے بغیر نہ رہ سکے۔ جس نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ کیا ۔وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلی کردار کامعترف ضرور ہوا۔ غیروں نے جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بارے میں کہا اس کی چند مثالیں پیش خدمت ہیں۔
روسی فلاسفر کاؤنٹ ٹالسٹانی کہتا ہے
محمد ﷺعظیم الشان مصلحین میں سے ہیں جنہوں نے اتحاد امت کی بہت بڑ ی خدمت کی ہے۔ ان کے فخر کے لیے یہی کافی ہے کہ انہوں نے وحشی انسانوں کو نورحق کی جانب ہدایت کی اور ان کو اتحاد، صلح پسندی اور پرہیز گاری کی زندگی بسر کرنے والا بنا دیا اور ان کے لیے ترقی وتہذیب کے راستے کھول دئیے اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اتنا بڑ ا کام صرف ایک فرد واحد کی ذات سے ظہور پذیر ہوا۔
یورپ کا مشہور عالم ٹامس کارلائل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا ان الفاظ میں اظہار کرتا ہے۔
صحرائے عرب کی یہ عظیم شخصیت جنہیں دنیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے جانتی ہے پاکیزہ روح، شفاف قلب وبلند نظری اور مقدس خیالات رکھتا تھا۔ جن کو خدا ہی نے حق وصداقت کی اشاعت کیلئے پیدا کیا۔ ہستی کا بھید ان پر کھل گیا تھا۔ آپ کا کلام خود اللہ کی آواز تھا۔
ایک ہندوپروفیسر اما کرشنا راؤ رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلمکواس طرح خراجِ عقیدت پیش کرتا ہے: رسول عربی ﷺکے کل تک تو پہنچنا مشکل ہے البتہ یہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)جرنیل ہیں، یہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)بادشاہ ہیں، سپہ سالار ہیں، تاجر ہیں، داعی ہیں، فلاسفر ہیں، مدبر ہیں، خطیب ہیں، مصلح ہیں، یتیموں کی پناہ گاہ ہیں، عورتوں کے نجات دہندہ ہیں، جج ہیں، ولی ہیں۔ یہ تمام اعلیٰ اور عظیم الشان کردار ایک ہی شخصیت کے ہیں۔ ہر شعبہ زندگی کیلئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت مثالی ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم کا سبق آموز واقعہ:یہ 1973ء کی بات ہے۔ عربوں اور اسرائیل کے درمیان جنگ چھڑنے کو تھی۔ ایسے میں ایک امریکی سنیٹر ایک اہم کام کے سلسلے میں اسرائیل آیا۔ وہ اسلحہ کمیٹی کا سربراہ تھا۔ اسے فوراً اسرائیل کی وزیراعظم گولڈہ مائیر کے پاس لے جایا گیا۔ گولڈہ مائیر نے ایک گھریلو عورت کی مانند سنیٹر کا استقبال کیا اور اسے اپنے کچن میں لے گئی۔ یہاں اس نے امریکی سنیٹر کو ایک چھوٹی سی ڈائننگ ٹیبل کے پاس کرسی پر بٹھا کر چولہے پر چائے کے لئے پانی رکھ دیا اور خود بھی وہیں آ بیٹھی۔ اس کے ساتھ اس نے طیاروں، میزائلوں اور توپوں کا سودا شروع کر دیا۔ ابھی بھاؤ تاؤ جاری تھا کہ اسے چائے پکنے کی خوشبو آئی۔ وہ خاموشی سے اٹھی اور چائے دو پیالیوں میں انڈیلی۔ ایک پیالی سنیٹر کے سامنے رکھ دی اور دوسری گیٹ پر کھڑے امریکی گارڈ کو تھما دی۔ پھر دوبارہ میز پر آ بیٹھی اور امریکی سنیٹر سے محو کلام ہو گئی۔ چند لمحوں کی گفت و شنید اور بھاؤ تاؤ کے بعد شرائط طے پا گئیں۔ اس دوران گولڈہ مائیر اٹھی، پیالیاں سمیٹیں اور انہیں دھو کر واپس سنیٹر کی طرف پلٹی اور بولی مجھے یہ سودا منظور ہے۔ آپ تحریری معاہدے کے لئے اپنا سیکرٹری میرے سیکرٹری کے پاس بھجوا دیجئے۔ یاد رہے کہ اسرائیل اس وقت اقتصادی بحران کا شکار تھا، مگر گولڈہ مائیر نے کتنی سادگی سے اسرائیل کی تاریخ میں اسلحے کی خریداری کا اتنا بڑا سودا کر ڈالا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ خود اسرائیلی کابینہ نے اس بھاری سودے کو رد کر دیا۔ اس کا موقف تھا، اس خریداری کے بعد اسرائیلی قوم کو برسوں تک دن میں ایک وقت کھانے پر اکتفا کرنا پڑے گا۔ گولڈہ مائیر نے ارکان کابینہ کا موقف سنا اور کہا: آپ کا خدشہ درست ہے، لیکن اگر ہم یہ جنگ جیت گئے اور ہم نے عربوں کو پسپائی پر مجبور کر دیا تو تاریخ ہمیں فاتح قرار دیگی اور جب تاریخ کسی قوم کو فاتح قرار دیتی ہے، تو وہ بھول جاتی ہے کہ جنگ کے دوران فاتح قوم نے کیا کھایا،کیاپہنا ۔فاتح صرف فاتح ہوتا ہے۔ گولڈہ مائیر کی دلیل میں وزن تھا، لہٰذا اسرائیلی کابینہ کو اس سودے کی منظوری دینا پڑی۔ آنے والے وقت نے ثابت کر دیا کہ گولڈہ مائیر کا اقدام درست تھا۔عربوں سے جنگ ہوئی اور عرب ایک بوڑھی عورت سے شرمناک شکست کھا گئے۔ جنگ کے ایک عرصہ بعد واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے نے گولڈہ مائیر کا انٹرویو لیا اور سوال کیا: امریکی اسلحہ خریدنے کے لئے آپ کے ذہن میں جو دلیل تھی، وہ فوراً آپ کے ذہن میں آئی تھی، یا پہلے سے حکمت عملی تیار کر رکھی تھی؟ گولڈہ مائیر نے جو جواب دیا وہ چونکا دینے والا تھا۔ وہ بولی:میں نے یہ استدلال اپنے دشمنوں (مسلمانوں) کے نبی (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) سے لیا تھا، میں جب طالبہ تھی تو مذاہب کا موازنہ میرا پسندیدہ موضوع تھا۔ انہی دنوں میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سوانح حیات پڑھی۔ اس کتاب میں مصنف نے ایک جگہ لکھا تھا کہ جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو ان کے گھر میں اتنی رقم نہیں تھی کہ چراغ جلانے کے لئے تیل خریدا جا سکے، لہٰذا ان کی اہلیہ (حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا) نے ان کی زرہ رہن رکھ کر تیل خریدا، لیکن اس وقت بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے کی دیواروں پر نو تلواریں لٹک رہی تھیں۔ میں نے جب یہ واقعہ پڑھا تو میں نے سوچا کہ دنیا میں کتنے لوگ ہوں گے جو مسلمانوں کی پہلی ریاست کی کمزور اقتصادی حالت کے بارے میں جانتے ہوں گے لیکن مسلمان آدھی دنیا کے فاتح ہیں۔ لہذا اس واقعہ کو سامنے رکھتے ہوئے میں نے اسلحہ سودا کرلیا۔
ڈاکٹر مائیکل مارٹ نے اپنی کتابThe Hundredمیں تاریخ کی ۰۰ ایسی شخصیتوں کا ذکر کیا جنہوں نے دنیا میں انمٹ نقوش چھوڑ ے۔ اس عیسائی نے ۰۰۱ ہستیوں میں سب سے پہلے نمبر پر نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک تذکرہ کیا۔ وہ لکھتا ہے: کہ میں نے ان سو آدمیوں کا تذکرہ کیا جنہوں نے تاریخ کو سب سے زیادہ متاثر کیا ان میں سب سے پہلے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ کیا ہے۔ اس سے بعض لوگ حیران ہوں گے لیکن اس کی میرے پاس ایک ٹھوس دلیل موجود ہے۔ کائنات میں جتنی بھی ہستیاں آئیں اگر ان کے حالات پڑ ھتے ہیں تو وہ ہمیں اپنے بچپن سے لڑ کپن میں کسی نہ کسی استاد کے سامنے بیٹھے تعلیم پاتے نظر آتے ہیں، جس سے پتہ چلتا ہے کہ ان تمام ہستیوں نے پہلے مروجہ تعلیم حاصل کی اور پھر اس کی بنیاد بنا کر انہوں نے زندگیوں میں کچھ اچھے کام کر دکھائے لیکن دنیا میں فقط ایک ہستی ایسی نظر آتی ہے کہ جس کی زندگی کی تفصیلات کو دیکھا جائے تو پوری زندگی کسی کے سامنے شاگرد بن کر بیٹھی نظر نہیں آتی۔ وہ ہستی محمدﷺہیں۔ یہ وہ ہستی ہیں جنہوں نے دنیا سے علم نہیں پایا بلکہ دنیا کو ایسا علم دیا کہ جیسا علم نہ پہلے کسی نے دیا اور نہ بعد میں کوئی دے گا۔ لہذا اس بات پر میرے دل نے چاہا کہ جس شخصیت نے ایسی علمی خدمات سرانجام دی ہوں میں غیر مذہب کا آدمی ہونے کے باوجود ان کو تاریخ کی سب سے اعلیٰ شخصیات میں پہلا درجہ مانتا ہوں۔
ایک غیر مسلم نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ -
ہوجائے عشق اس میں چارہ تو نہیں
فقط مسلم کا محمدصلی اللہ علیہ وسلم پہ اجارہ تو نہیں
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلمایک باکمال شخص تھے۔بچپن سے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حال تھا کہ جو دیکھتا کہہ اٹھتا: ان لھذا الغلام لشأنا۔ بڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت اور زیادہ نمایاں ہوگئی۔آپصلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مرعوب ہوجاتے۔جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوتا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے لگتا۔برداشت، سچائی معاملہ فہمی، حسن سلوک آپ کے اندر کامل درجہ میں پایا جاتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کردار اور سیرت کا وہ نمونہ پیش کیا جس کا اعتراف اپنوں نے تو کیا ہی غیر بھی اعتراف کیے بغیر نہ رہ سکے۔ جس نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ کیا ۔وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلی کردار کامعترف ضرور ہوا۔ غیروں نے جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بارے میں کہا اس کی چند مثالیں پیش خدمت ہیں۔
روسی فلاسفر کاؤنٹ ٹالسٹانی کہتا ہے
محمد ﷺعظیم الشان مصلحین میں سے ہیں جنہوں نے اتحاد امت کی بہت بڑ ی خدمت کی ہے۔ ان کے فخر کے لیے یہی کافی ہے کہ انہوں نے وحشی انسانوں کو نورحق کی جانب ہدایت کی اور ان کو اتحاد، صلح پسندی اور پرہیز گاری کی زندگی بسر کرنے والا بنا دیا اور ان کے لیے ترقی وتہذیب کے راستے کھول دئیے اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اتنا بڑ ا کام صرف ایک فرد واحد کی ذات سے ظہور پذیر ہوا۔
یورپ کا مشہور عالم ٹامس کارلائل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا ان الفاظ میں اظہار کرتا ہے۔
صحرائے عرب کی یہ عظیم شخصیت جنہیں دنیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے جانتی ہے پاکیزہ روح، شفاف قلب وبلند نظری اور مقدس خیالات رکھتا تھا۔ جن کو خدا ہی نے حق وصداقت کی اشاعت کیلئے پیدا کیا۔ ہستی کا بھید ان پر کھل گیا تھا۔ آپ کا کلام خود اللہ کی آواز تھا۔
ایک ہندوپروفیسر اما کرشنا راؤ رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلمکواس طرح خراجِ عقیدت پیش کرتا ہے: رسول عربی ﷺکے کل تک تو پہنچنا مشکل ہے البتہ یہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)جرنیل ہیں، یہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)بادشاہ ہیں، سپہ سالار ہیں، تاجر ہیں، داعی ہیں، فلاسفر ہیں، مدبر ہیں، خطیب ہیں، مصلح ہیں، یتیموں کی پناہ گاہ ہیں، عورتوں کے نجات دہندہ ہیں، جج ہیں، ولی ہیں۔ یہ تمام اعلیٰ اور عظیم الشان کردار ایک ہی شخصیت کے ہیں۔ ہر شعبہ زندگی کیلئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت مثالی ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم کا سبق آموز واقعہ:یہ 1973ء کی بات ہے۔ عربوں اور اسرائیل کے درمیان جنگ چھڑنے کو تھی۔ ایسے میں ایک امریکی سنیٹر ایک اہم کام کے سلسلے میں اسرائیل آیا۔ وہ اسلحہ کمیٹی کا سربراہ تھا۔ اسے فوراً اسرائیل کی وزیراعظم گولڈہ مائیر کے پاس لے جایا گیا۔ گولڈہ مائیر نے ایک گھریلو عورت کی مانند سنیٹر کا استقبال کیا اور اسے اپنے کچن میں لے گئی۔ یہاں اس نے امریکی سنیٹر کو ایک چھوٹی سی ڈائننگ ٹیبل کے پاس کرسی پر بٹھا کر چولہے پر چائے کے لئے پانی رکھ دیا اور خود بھی وہیں آ بیٹھی۔ اس کے ساتھ اس نے طیاروں، میزائلوں اور توپوں کا سودا شروع کر دیا۔ ابھی بھاؤ تاؤ جاری تھا کہ اسے چائے پکنے کی خوشبو آئی۔ وہ خاموشی سے اٹھی اور چائے دو پیالیوں میں انڈیلی۔ ایک پیالی سنیٹر کے سامنے رکھ دی اور دوسری گیٹ پر کھڑے امریکی گارڈ کو تھما دی۔ پھر دوبارہ میز پر آ بیٹھی اور امریکی سنیٹر سے محو کلام ہو گئی۔ چند لمحوں کی گفت و شنید اور بھاؤ تاؤ کے بعد شرائط طے پا گئیں۔ اس دوران گولڈہ مائیر اٹھی، پیالیاں سمیٹیں اور انہیں دھو کر واپس سنیٹر کی طرف پلٹی اور بولی مجھے یہ سودا منظور ہے۔ آپ تحریری معاہدے کے لئے اپنا سیکرٹری میرے سیکرٹری کے پاس بھجوا دیجئے۔ یاد رہے کہ اسرائیل اس وقت اقتصادی بحران کا شکار تھا، مگر گولڈہ مائیر نے کتنی سادگی سے اسرائیل کی تاریخ میں اسلحے کی خریداری کا اتنا بڑا سودا کر ڈالا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ خود اسرائیلی کابینہ نے اس بھاری سودے کو رد کر دیا۔ اس کا موقف تھا، اس خریداری کے بعد اسرائیلی قوم کو برسوں تک دن میں ایک وقت کھانے پر اکتفا کرنا پڑے گا۔ گولڈہ مائیر نے ارکان کابینہ کا موقف سنا اور کہا: آپ کا خدشہ درست ہے، لیکن اگر ہم یہ جنگ جیت گئے اور ہم نے عربوں کو پسپائی پر مجبور کر دیا تو تاریخ ہمیں فاتح قرار دیگی اور جب تاریخ کسی قوم کو فاتح قرار دیتی ہے، تو وہ بھول جاتی ہے کہ جنگ کے دوران فاتح قوم نے کیا کھایا،کیاپہنا ۔فاتح صرف فاتح ہوتا ہے۔ گولڈہ مائیر کی دلیل میں وزن تھا، لہٰذا اسرائیلی کابینہ کو اس سودے کی منظوری دینا پڑی۔ آنے والے وقت نے ثابت کر دیا کہ گولڈہ مائیر کا اقدام درست تھا۔عربوں سے جنگ ہوئی اور عرب ایک بوڑھی عورت سے شرمناک شکست کھا گئے۔ جنگ کے ایک عرصہ بعد واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے نے گولڈہ مائیر کا انٹرویو لیا اور سوال کیا: امریکی اسلحہ خریدنے کے لئے آپ کے ذہن میں جو دلیل تھی، وہ فوراً آپ کے ذہن میں آئی تھی، یا پہلے سے حکمت عملی تیار کر رکھی تھی؟ گولڈہ مائیر نے جو جواب دیا وہ چونکا دینے والا تھا۔ وہ بولی:میں نے یہ استدلال اپنے دشمنوں (مسلمانوں) کے نبی (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) سے لیا تھا، میں جب طالبہ تھی تو مذاہب کا موازنہ میرا پسندیدہ موضوع تھا۔ انہی دنوں میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سوانح حیات پڑھی۔ اس کتاب میں مصنف نے ایک جگہ لکھا تھا کہ جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو ان کے گھر میں اتنی رقم نہیں تھی کہ چراغ جلانے کے لئے تیل خریدا جا سکے، لہٰذا ان کی اہلیہ (حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا) نے ان کی زرہ رہن رکھ کر تیل خریدا، لیکن اس وقت بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے کی دیواروں پر نو تلواریں لٹک رہی تھیں۔ میں نے جب یہ واقعہ پڑھا تو میں نے سوچا کہ دنیا میں کتنے لوگ ہوں گے جو مسلمانوں کی پہلی ریاست کی کمزور اقتصادی حالت کے بارے میں جانتے ہوں گے لیکن مسلمان آدھی دنیا کے فاتح ہیں۔ لہذا اس واقعہ کو سامنے رکھتے ہوئے میں نے اسلحہ سودا کرلیا۔
ڈاکٹر مائیکل مارٹ نے اپنی کتابThe Hundredمیں تاریخ کی ۰۰ ایسی شخصیتوں کا ذکر کیا جنہوں نے دنیا میں انمٹ نقوش چھوڑ ے۔ اس عیسائی نے ۰۰۱ ہستیوں میں سب سے پہلے نمبر پر نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک تذکرہ کیا۔ وہ لکھتا ہے: کہ میں نے ان سو آدمیوں کا تذکرہ کیا جنہوں نے تاریخ کو سب سے زیادہ متاثر کیا ان میں سب سے پہلے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ کیا ہے۔ اس سے بعض لوگ حیران ہوں گے لیکن اس کی میرے پاس ایک ٹھوس دلیل موجود ہے۔ کائنات میں جتنی بھی ہستیاں آئیں اگر ان کے حالات پڑ ھتے ہیں تو وہ ہمیں اپنے بچپن سے لڑ کپن میں کسی نہ کسی استاد کے سامنے بیٹھے تعلیم پاتے نظر آتے ہیں، جس سے پتہ چلتا ہے کہ ان تمام ہستیوں نے پہلے مروجہ تعلیم حاصل کی اور پھر اس کی بنیاد بنا کر انہوں نے زندگیوں میں کچھ اچھے کام کر دکھائے لیکن دنیا میں فقط ایک ہستی ایسی نظر آتی ہے کہ جس کی زندگی کی تفصیلات کو دیکھا جائے تو پوری زندگی کسی کے سامنے شاگرد بن کر بیٹھی نظر نہیں آتی۔ وہ ہستی محمدﷺہیں۔ یہ وہ ہستی ہیں جنہوں نے دنیا سے علم نہیں پایا بلکہ دنیا کو ایسا علم دیا کہ جیسا علم نہ پہلے کسی نے دیا اور نہ بعد میں کوئی دے گا۔ لہذا اس بات پر میرے دل نے چاہا کہ جس شخصیت نے ایسی علمی خدمات سرانجام دی ہوں میں غیر مذہب کا آدمی ہونے کے باوجود ان کو تاریخ کی سب سے اعلیٰ شخصیات میں پہلا درجہ مانتا ہوں۔
ایک غیر مسلم نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ -
ہوجائے عشق اس میں چارہ تو نہیں
فقط مسلم کا محمدصلی اللہ علیہ وسلم پہ اجارہ تو نہیں
Very good
ReplyDelete