بیٹیاں تو اللہ کی رحمت ہیں۔
بیٹیاں تو اللہ کی رحمت ہیں۔
بیٹیاں سب کے مقدر میں کہاں ہوتی ہیں
گھرخداکوجوپسند آئے وہاں ہوتی ہیں
اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام قرآن کریم میں ارشاد فرمایا:آسمانوں اور زمین کی سلطنت وبادشاہت صرف اللہ ہی کے لئے ہے۔ وہ جو چاہے پیدا کرتا ہے۔ جس کو چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے۔ اور جسے چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے۔ اور جس کو چاہتا ہے بیٹے اور بیٹیاں دنوں عطا کردیتا ہے۔ اور جس کو چاہتا ہے بانجھ کردیتا ہے۔۔۔۔۔۔ اس کے ہاں نہ لڑکا پیدا ہوتا ہے اور نہ لڑکی پیدا ہوتی ہے، لاکھ کوشش کرے مگر اولاد نہیں ہوتی ہے۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت پر مبنی ہے۔ جس کے لئے جو مناسب سمجھتا ہے وہ اس کو عطا فرمادیتا ہے۔ (سورہ الشوریٰ ۔ ۰)لڑکیاں اور لڑکے دونوں اللہ کی نعمت ہیں۔ لڑکے اور لڑکیوں دونوں کی ضرورت ہے۔ عورتیں مرد کی محتاج ہیں، اور مرد عورتوں کے محتاج ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت بالغہ سے دنیا میں ایسا نظام قائم کیا ہے کہ جس میں دونوں کی ضرورت ہے اور دونوں ایک دوسرے کے محتاج ہیں۔
اللہ کی اِس حکمت اور مصلحت کی روشنی میں جب ہم اپنا جائزہ لیتے ہیں تو ہم میں سے بعض احباب ایسے نظر آئیں گے کہ جن کے یہاں لڑکے کی بڑی آرزوئیں اور تمنائیں کی جاتی ہیں، جب لڑکا پیدا ہوتا ہے تو اس وقت بہت خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے۔ اور اگر لڑکی پیدا ہوجائے تو خوشی کا اظہار نہیں کیا جاتا ہے، بلکہ بعض اوقات بچی کی پیدائش پر شوہر اپنی بیوی پر، اسی طرح گھر کے دیگر افراد عورت پر ناراض ہوتے ہیں، حالانکہ اس میں عورت کا کوئی قصور نہیں ہے۔ یہ سب کچھ اللہ کی عطا ہے۔ کسی کو ذرہ برابر بھی اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ یاد رکھیں کہ لڑکیوں کو کم تر سمجھنا زمانہئ جاہلیت کے کافروں کا عمل تھا، جیساکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ذکر فرمایا ہے۔ (ان میں سے جب کسی کو لڑکی ہونے کی خبر دی جائے تو اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے اور دل ہی دل میں گھٹنے لگتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خوب سن لو کہ وہ (کفار مکہ) بہت برا فیصلہ کرتے ہیں)۔ (سورہئ النحل۔) لہذا ہمیں بیٹی کے پیدا ہونے پر بھی یقیناًخوشی ومسرت کا اظہار کرنا چاہئے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹیوں کی پرورش پر جتنے فضائل بیان فرمائے ہیں، بیٹے کی پرورش پر اس قدر بیان نہیں فرمائے۔
لڑکیوں کی پرورش کے فضائل سے متعلق چند احادیث:
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص کی تین بیٹیاں یا تین بہنیں ہوں، یا دو بیٹیاں یا دو بہنیں ہوں، اور وہ ان کے ساتھ بہت اچھے طریقے سے زندگی گزارے (یعنی ان کے جو حقوق شریعت نے مقرر فرمائے ہیں وہ ادا کرے، ان کے ساتھ احسان اور سلوک کا معاملہ کرے، ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے) اور ان کے حقوق کی ادائیگی کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے تو اللہ تعالیٰ اس کی بدولت اس کو جنت میں داخل فرمائیں گے۔ (ترمذی۔ باب ما جاء فی النفقہ علی البنات)
اسی مضمون کی حدیث حضرت ابو ہریرہ ؓ سے بھی مروی ہے مگر اس میں اتنا اضافہ ہے کہ آپ اکے ارشاد فرمانے پر کسی نے سوال کیا کہ اگر کسی کی ایک بیٹی ہو (تو کیا وہ اس ثواب عظیم سے محروم رہے گا؟) آپ ا نے ارشاد فرمایا: جو شخص ایک بیٹی کی اسی طرح پرورش کرے گا، اس کے لئے بھی جنت ہے۔ (اتحاف السادۃ المتقین)
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ حضور اکرم ا نے ارشاد فرمایا: جس شخص پر لڑکیوں کی پرورش اور دیکھ بھال کی ذمہ داری ہو اور وہ اس کو صبر وتحمل سے انجام دے تو یہ لڑکیاں اس کے لئے جہنم سے آڑ بن جائیں گی۔ (ترمذی)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص کی دو یا تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان کی اچھے انداز سے پرورش کرے (اور جب شادی کے قابل ہوجائیں تو ان کی شادی کردے) تو میں اور وہ شخص جنت میں اس طرح داخل ہونگے جس طرح یہ دونوں انگلیاں ملی ہوئی ہیں۔ (ترمذی۔ باب ما جاء فی النفقہ علی البنات)
حضرت عائشہؓ سے ایک قصہ منقول ہے، وہ فرماتی ہیں کہ ایک خاتون میرے پاس آئی جس کے ساتھ اس کی دو لڑکیاں تھیں، اس خاتون نے مجھ سے کچھ سوال کیا، اس وقت میرے پاس سوائے ایک کھجور کے اور کچھ نہیں تھا، وہ کھجور میں نے اس عورت کو دیدی، اس اللہ کی بندی نے اس کھجور کے دو ٹکڑے کئے اور ایک ایک ٹکڑا دونوں بچیوں کے ہاتھ پر رکھ دیا، خود کچھ نہیں کھایا، حالانکہ خود اسے بھی ضرورت تھی، اس کے بعد وہ خاتون بچیوں کو لے کر چلی گئی۔ تھوڑی دیر کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے اس خاتون کے آنے اور ایک کھجور کے دو ٹکڑے کرکے بچیوں کو دینے کا پورا واقعہ سنایا۔ آپ نے ارشاد فرمایا: جس کو دو بچیوں کی پرورش کرنے کا موقع ملے اور وہ ان کے ساتھ شفقت کا معاملہ کرے تو وہ بچیاں اس کو جہنم سے بچانے کے لئے آڑ بن جائیں گی۔ (ترمذی)
پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور جگہ فرمایا: جس کی کے گھر لڑکی ہو پھر وہ اسے نہ زندہ در گور کرے نہ اس کی توہین کرے (لڑکی ہونے کے ناطے ہر وقت طعن وملامت نہ کرے)اور نہ لڑکے کو اس پر ترجیح دے، اللہ تعالی اسے جنت میں داخل فرمادیں گے (ابوداؤد)
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنھاسے روایت ہے، حضورصلی اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا: جس شخص کو لڑکیوں کے سلسلے میں کسی طرح آزمایا جائے اور وہ اس پر صبر کرے تو وہ لڑکیاں اس شخص کے لئے دوزخ سے آڑبن جاتی ہیں (جامع ترمذی)
وضاحت: مذکورہ احادیث سے معلوم ہوا کہ لڑکیوں کی شریعت اسلامیہ کے مطابق تعلیم وتربیت اور پھر ان کی شادی کرنے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے تین فضیلتیں حاصل ہوں گی:
جہنم سے چھٹکارا۔
جنت میں داخلہ۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنت میں ہمراہی۔
قرآن کی آیات ودیگر احادیث کی روشنی میں یہ بات بڑے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ شریعتِ اسلامیہ کے مطابق اولاد کی بہتر تعلیم وتربیت وہی کرسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہو، جیسا کہ پہلی حدیث میں گزرا (ان کے حقوق کی ادائیگی کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے)۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طرزِ عمل:
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چار بیٹیاں تھیں: حضرت فاطمہؓ، حضرت زینبؓ، حضرت رقیہؓ، اور حضرت ام کلثومؓ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چاروں بیٹیوں سے بہت محبت فرماتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تین بیٹیوں کا انتقال آپ کی زندگی میں ہی ہوگیا تھا، حضرت فاطمہؓ کا انتقال آپ اکے انتقال کے چھ ماہ بعد ہوا۔ آپ ا کی چاروں بیٹیاں جنت البقیع میں مدفون ہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت فاطمہؓ کے ساتھ بہت ہی شفقت اور محبت کا معاملہ فرمایا کرتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر میں تشریف لے جاتے تو سب سے آخر میں حضرت فاطمہؓ سے ملتے، اور جب سفر سے واپس تشریف لاتے تو سب سے پہلے حضرت فاطمہؓ کے پاس تشریف لے جاتے۔
اس ساری تفصیل کے بعد افسوس ہے ان لوگوں پر جو بیٹی کے وجود کو ناپسند کرتے جبکہ ان کا اپنا وجود کسی کی بیٹی کا مرہون منت ہے۔ اوران کی نسل کی بقاء کسی بیٹی کے بغیر نا ممکن ہے۔ اگر بیٹیاں نہ ہوں انسانوں کا وجود دنیا سے ختم ہو جائے۔ کارخانہ کائنات انہیں بیٹیوں کے دم سے آباد ہے۔
بیٹیاں نور نظر دل کی صدا ہوتی ہیں
بیٹیاں مثل دعا مثل شفا ہوتی ہیں
تپتے صحراؤں میں یہ باد صبا ہوتی ہیں
بیٹیاں باپ کی پگ ماں کی ردا ہوتی ہیں
فخر کرتی ہیں وہ اقدار پہ اپنے اعلٰی
بیٹیاں قوموں کے لئے قبلہ نما ہوتی ہیں
دل میں رہتی ہیں یہ تاعمر ہو دھڑکن جیسے
بیٹیاں بھی کبھی سینوں سے جدا ہوتی ہیں
شمع قندیل میں روشن ہو تو کیا خوب سجے
بیٹیاں پیاری جو پابند حیا ہوتی ہیں
زندگی میں جو کبھی درد کے موسم آئیں
بیٹیاں ہی تو فقط جاء پناہ ہوتی ہیں
حرف آنے نہیں دیتی ہیں وفاؤں پہ کبھی
اپنے ماں باپ کی عصمت پہ فدا ہوتی ہیں
بیٹیاں نورِ نظر دل کی صدا ہوتی ہیں
اللہ رکھازین جامعہ قادریہ حنفیہ صادق آباد ملز ملتان03077188858
بیٹیاں سب کے مقدر میں کہاں ہوتی ہیں
گھرخداکوجوپسند آئے وہاں ہوتی ہیں
اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام قرآن کریم میں ارشاد فرمایا:آسمانوں اور زمین کی سلطنت وبادشاہت صرف اللہ ہی کے لئے ہے۔ وہ جو چاہے پیدا کرتا ہے۔ جس کو چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے۔ اور جسے چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے۔ اور جس کو چاہتا ہے بیٹے اور بیٹیاں دنوں عطا کردیتا ہے۔ اور جس کو چاہتا ہے بانجھ کردیتا ہے۔۔۔۔۔۔ اس کے ہاں نہ لڑکا پیدا ہوتا ہے اور نہ لڑکی پیدا ہوتی ہے، لاکھ کوشش کرے مگر اولاد نہیں ہوتی ہے۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت پر مبنی ہے۔ جس کے لئے جو مناسب سمجھتا ہے وہ اس کو عطا فرمادیتا ہے۔ (سورہ الشوریٰ ۔ ۰)لڑکیاں اور لڑکے دونوں اللہ کی نعمت ہیں۔ لڑکے اور لڑکیوں دونوں کی ضرورت ہے۔ عورتیں مرد کی محتاج ہیں، اور مرد عورتوں کے محتاج ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت بالغہ سے دنیا میں ایسا نظام قائم کیا ہے کہ جس میں دونوں کی ضرورت ہے اور دونوں ایک دوسرے کے محتاج ہیں۔
اللہ کی اِس حکمت اور مصلحت کی روشنی میں جب ہم اپنا جائزہ لیتے ہیں تو ہم میں سے بعض احباب ایسے نظر آئیں گے کہ جن کے یہاں لڑکے کی بڑی آرزوئیں اور تمنائیں کی جاتی ہیں، جب لڑکا پیدا ہوتا ہے تو اس وقت بہت خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے۔ اور اگر لڑکی پیدا ہوجائے تو خوشی کا اظہار نہیں کیا جاتا ہے، بلکہ بعض اوقات بچی کی پیدائش پر شوہر اپنی بیوی پر، اسی طرح گھر کے دیگر افراد عورت پر ناراض ہوتے ہیں، حالانکہ اس میں عورت کا کوئی قصور نہیں ہے۔ یہ سب کچھ اللہ کی عطا ہے۔ کسی کو ذرہ برابر بھی اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ یاد رکھیں کہ لڑکیوں کو کم تر سمجھنا زمانہئ جاہلیت کے کافروں کا عمل تھا، جیساکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ذکر فرمایا ہے۔ (ان میں سے جب کسی کو لڑکی ہونے کی خبر دی جائے تو اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے اور دل ہی دل میں گھٹنے لگتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خوب سن لو کہ وہ (کفار مکہ) بہت برا فیصلہ کرتے ہیں)۔ (سورہئ النحل۔) لہذا ہمیں بیٹی کے پیدا ہونے پر بھی یقیناًخوشی ومسرت کا اظہار کرنا چاہئے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹیوں کی پرورش پر جتنے فضائل بیان فرمائے ہیں، بیٹے کی پرورش پر اس قدر بیان نہیں فرمائے۔
لڑکیوں کی پرورش کے فضائل سے متعلق چند احادیث:
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص کی تین بیٹیاں یا تین بہنیں ہوں، یا دو بیٹیاں یا دو بہنیں ہوں، اور وہ ان کے ساتھ بہت اچھے طریقے سے زندگی گزارے (یعنی ان کے جو حقوق شریعت نے مقرر فرمائے ہیں وہ ادا کرے، ان کے ساتھ احسان اور سلوک کا معاملہ کرے، ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے) اور ان کے حقوق کی ادائیگی کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے تو اللہ تعالیٰ اس کی بدولت اس کو جنت میں داخل فرمائیں گے۔ (ترمذی۔ باب ما جاء فی النفقہ علی البنات)
اسی مضمون کی حدیث حضرت ابو ہریرہ ؓ سے بھی مروی ہے مگر اس میں اتنا اضافہ ہے کہ آپ اکے ارشاد فرمانے پر کسی نے سوال کیا کہ اگر کسی کی ایک بیٹی ہو (تو کیا وہ اس ثواب عظیم سے محروم رہے گا؟) آپ ا نے ارشاد فرمایا: جو شخص ایک بیٹی کی اسی طرح پرورش کرے گا، اس کے لئے بھی جنت ہے۔ (اتحاف السادۃ المتقین)
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ حضور اکرم ا نے ارشاد فرمایا: جس شخص پر لڑکیوں کی پرورش اور دیکھ بھال کی ذمہ داری ہو اور وہ اس کو صبر وتحمل سے انجام دے تو یہ لڑکیاں اس کے لئے جہنم سے آڑ بن جائیں گی۔ (ترمذی)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص کی دو یا تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان کی اچھے انداز سے پرورش کرے (اور جب شادی کے قابل ہوجائیں تو ان کی شادی کردے) تو میں اور وہ شخص جنت میں اس طرح داخل ہونگے جس طرح یہ دونوں انگلیاں ملی ہوئی ہیں۔ (ترمذی۔ باب ما جاء فی النفقہ علی البنات)
حضرت عائشہؓ سے ایک قصہ منقول ہے، وہ فرماتی ہیں کہ ایک خاتون میرے پاس آئی جس کے ساتھ اس کی دو لڑکیاں تھیں، اس خاتون نے مجھ سے کچھ سوال کیا، اس وقت میرے پاس سوائے ایک کھجور کے اور کچھ نہیں تھا، وہ کھجور میں نے اس عورت کو دیدی، اس اللہ کی بندی نے اس کھجور کے دو ٹکڑے کئے اور ایک ایک ٹکڑا دونوں بچیوں کے ہاتھ پر رکھ دیا، خود کچھ نہیں کھایا، حالانکہ خود اسے بھی ضرورت تھی، اس کے بعد وہ خاتون بچیوں کو لے کر چلی گئی۔ تھوڑی دیر کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے اس خاتون کے آنے اور ایک کھجور کے دو ٹکڑے کرکے بچیوں کو دینے کا پورا واقعہ سنایا۔ آپ نے ارشاد فرمایا: جس کو دو بچیوں کی پرورش کرنے کا موقع ملے اور وہ ان کے ساتھ شفقت کا معاملہ کرے تو وہ بچیاں اس کو جہنم سے بچانے کے لئے آڑ بن جائیں گی۔ (ترمذی)
پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور جگہ فرمایا: جس کی کے گھر لڑکی ہو پھر وہ اسے نہ زندہ در گور کرے نہ اس کی توہین کرے (لڑکی ہونے کے ناطے ہر وقت طعن وملامت نہ کرے)اور نہ لڑکے کو اس پر ترجیح دے، اللہ تعالی اسے جنت میں داخل فرمادیں گے (ابوداؤد)
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنھاسے روایت ہے، حضورصلی اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا: جس شخص کو لڑکیوں کے سلسلے میں کسی طرح آزمایا جائے اور وہ اس پر صبر کرے تو وہ لڑکیاں اس شخص کے لئے دوزخ سے آڑبن جاتی ہیں (جامع ترمذی)
وضاحت: مذکورہ احادیث سے معلوم ہوا کہ لڑکیوں کی شریعت اسلامیہ کے مطابق تعلیم وتربیت اور پھر ان کی شادی کرنے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے تین فضیلتیں حاصل ہوں گی:
جہنم سے چھٹکارا۔
جنت میں داخلہ۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنت میں ہمراہی۔
قرآن کی آیات ودیگر احادیث کی روشنی میں یہ بات بڑے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ شریعتِ اسلامیہ کے مطابق اولاد کی بہتر تعلیم وتربیت وہی کرسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہو، جیسا کہ پہلی حدیث میں گزرا (ان کے حقوق کی ادائیگی کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے)۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طرزِ عمل:
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چار بیٹیاں تھیں: حضرت فاطمہؓ، حضرت زینبؓ، حضرت رقیہؓ، اور حضرت ام کلثومؓ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چاروں بیٹیوں سے بہت محبت فرماتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تین بیٹیوں کا انتقال آپ کی زندگی میں ہی ہوگیا تھا، حضرت فاطمہؓ کا انتقال آپ اکے انتقال کے چھ ماہ بعد ہوا۔ آپ ا کی چاروں بیٹیاں جنت البقیع میں مدفون ہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت فاطمہؓ کے ساتھ بہت ہی شفقت اور محبت کا معاملہ فرمایا کرتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر میں تشریف لے جاتے تو سب سے آخر میں حضرت فاطمہؓ سے ملتے، اور جب سفر سے واپس تشریف لاتے تو سب سے پہلے حضرت فاطمہؓ کے پاس تشریف لے جاتے۔
اس ساری تفصیل کے بعد افسوس ہے ان لوگوں پر جو بیٹی کے وجود کو ناپسند کرتے جبکہ ان کا اپنا وجود کسی کی بیٹی کا مرہون منت ہے۔ اوران کی نسل کی بقاء کسی بیٹی کے بغیر نا ممکن ہے۔ اگر بیٹیاں نہ ہوں انسانوں کا وجود دنیا سے ختم ہو جائے۔ کارخانہ کائنات انہیں بیٹیوں کے دم سے آباد ہے۔
بیٹیاں نور نظر دل کی صدا ہوتی ہیں
بیٹیاں مثل دعا مثل شفا ہوتی ہیں
تپتے صحراؤں میں یہ باد صبا ہوتی ہیں
بیٹیاں باپ کی پگ ماں کی ردا ہوتی ہیں
فخر کرتی ہیں وہ اقدار پہ اپنے اعلٰی
بیٹیاں قوموں کے لئے قبلہ نما ہوتی ہیں
دل میں رہتی ہیں یہ تاعمر ہو دھڑکن جیسے
بیٹیاں بھی کبھی سینوں سے جدا ہوتی ہیں
شمع قندیل میں روشن ہو تو کیا خوب سجے
بیٹیاں پیاری جو پابند حیا ہوتی ہیں
زندگی میں جو کبھی درد کے موسم آئیں
بیٹیاں ہی تو فقط جاء پناہ ہوتی ہیں
حرف آنے نہیں دیتی ہیں وفاؤں پہ کبھی
اپنے ماں باپ کی عصمت پہ فدا ہوتی ہیں
بیٹیاں نورِ نظر دل کی صدا ہوتی ہیں
اللہ رکھازین جامعہ قادریہ حنفیہ صادق آباد ملز ملتان03077188858
Comments
Post a Comment