تیری عظمتوں سے ہوں بےخبر
<"font face="jameel noori nastaleeq>
تیری عظمتوں سے ہوں بے خبر میری نظروں کا قصور ہے
تیری راہ گزر میں قدم قدم کہیں عرش ہے کہیں طور ہے
یہ بجا ہے مالک بندگی میری بندگی میں قصور ہے
یہ خطا ہے میری خطا مگر تیرا نام بھی غفور ہے
یہ بتا کہ تجھے ملوں کہاں مجھے تجھ سے ملنا ضرور ہے
کہیں دل کی شرط نہ ڈالنا ابھی دل نگاہوں سے دور ہے
یہ بجا ہے مالک بندگی میری بندگی میں قصور ہے
یہ خطا ہے میری خطا مگر تیرا نام بھی غفور ہے
یہ بتا کہ تجھے ملوں کہاں مجھے تجھ سے ملنا ضرور ہے
کہیں دل کی شرط نہ ڈالنا ابھی دل نگاہوں سے دور ہے
Comments
Post a Comment